آپ کا اصل نام سید محمد نظام الدین، والد کا نام سید احمد بخاری ہے۔ آپ کے القابات 'نظام الاولیاء، محبوب الہی، سلطان المشائخ، سلطان الاولیاء مشہور ہیں۔آپکی ولادت 636ھ اور وفات 725ھ میں ہوئی۔آپ کے جدِ امجد سید علی بخاری اور نانا خواجہ عرب بخارا سے ہجرت کرکے بدایوں پہنچے۔آپ نے قرآن کریم کا ایک پارہ مقری بدایونی سے پڑھا اس کے بعد مولانا علاؤالدین اصولی سے مختصر القدوری پڑھی۔ مشارق الانوار کی سند مولانا کمال الدین سے حاصل کی۔ اس کے بعد دہلی آکر خواجہ نجیب الدین متوکل سے صحبت رہی۔ یہیں شمس الدین خوازمی سے تحصیل علم کی۔ظاہری علوم کے حصول کے بعد آپ نے بیس سال کی عمر میں اجودھن موجودہ پاکپتن حضرت بابا فرید الدین گنج شکر کی بارگاہ میں حاضر ہوئے۔آپ کو دیکھ کر حضرت بابا فرید الدین گنج شکر نے یہ شعر پڑھا:
اے آتش فراغت دل ہا کباب کردہ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ سیلاب اشتیاقت جا نہا خراب کردہ
پیر و مرشد سے بیعت ہو کر 6 پارے اور عوارف کے 6 باب تمہید ابو شکور سلمی اور بعض دوسری کتابیں پڑھیں اور باطنی علوم کے حصول کے بعد خلافت حاصل کی۔ پیر و مرشد کے حکم پر ہی دہلی آکر محلہ غیاث پورہ میں مستقل سکونت اختیار کی۔ سلوک و معرفت کی تمام منزلیں حاصل کرنے کے باوجود آپ نے تیس سال تک نہایت ہی سخت مجاہدہ کیا۔حضرت امیر خسرو آپ کے مشہور ترین خلیفہ ہیں۔
آپکی تصانیف فوائد الفواد فصل الفواد راحت المحبین سیر الاولیاء ہیں۔
آپکے چند خوبصورت اشعار:
صبا بسوی مدینه رو کن از این دعاگو سلام برخواں
به گردِ شاه رسل بگرد و به صد تضرع پیام برخواں
اے صبا مدینہ شریف کا رخ کر اور اس عاجز کا سلام انکی بارگاہ میں پیش کرنا
رسولوں کے بادشاہ کے گرد پھیرا لگا کر انتہائی عاجزی سے عرض گزارنا
به بابِ رحمت گہی گذرکن به بابِ جبریل گہ جبین ساز
سلام ربی علٰی نبی گہی بباب سلام بر خواں
کبھی باب رحمت سے گزرنا تو کبھی باب جبریل پہ جبیں سائی کرنا
اور کبھی تو باب سلام پہ جا کر نبی محتشم پر سلام بھیجنا۔
بشو ز من صورت مثالی نماز بگزار اندر آں جا
بہ لحن خوش سورہ محمد تمام اندر قیام بر خواں
وہاں اندر جا کر میری مثالی صورت بنا کر نماز ادا کرنا قیام میں
خوبصورت لحن کیساتھ مکمل سورہ محمد تلاوت کرنا۔
به لحنِ داؤد ہم نوا شوبه ناله درد آشنا شو
بہ بزم پیغمبر این غزل رازعبد عاجزنظام برخواں
لحن داؤد سے ہمنوا ہو کر اور اپنے اندر سوز و گداز پیدا کر کے
حضور کی مجلس میں اس عبد عاجز نظام الدین کی عرض پیش کرنا.