ابو الحسن یمین الدین امیر خسرو کا نامِ نامی کسی تعارف کا محتاج نہیں ہے۔ ان جیسی نابغہِ روزگار، کثیر الجہتی، ہمہ گیر اور متنوع شخصیات صدیوں میں پیدا ہوتی ہیں۔ والد ایک ترک سردار تھے۔ منگولوں کے حملوں کے وقت ہندوستان آئے اور پٹیالی (آگرہ) میں سکونت اختیار کی۔ امیر خسرو یہیں پیدا ہوئے۔ ان کى والدہ ہندوستانی تھیں۔ کچھ عرصے بعد یہ خاندان دہلی منتقل ہوگیا اور امیرخسرو نے سلطنت دہلی (خاندان غلمان، خليجی ، اورتغلق) کے آٹھ بادشاہوں کا زمانہ دیکھا اور برصغیر میں اسلامی سلطنت کے ابتدائی ادوار کی سیاسی، سماجی اور ثقافتی زندگی میں سرگرم حصہ لیا۔آپکی پیدائش: 1253ءاوروفات: 1325ء بتائی جاتی ہے۔خسرو نے ہر صنف شعر ، مثنوی ، قصیدہ ، غزل ، ہندی دوہے ،پہیلیاں ، گیت وغیرہ میں طبع آزمائی کی۔ غزل میں پانچ دیوان یادگارچھوڑے۔ ہندوستانی موسیقی میں ترانہ ، قول اور قلبانہ انہی کی ایجاد ہے۔ بعض ہندوستانی راگنیوں میں ہندوستانی پیوند لگائے۔ راگنی (ایمن کلیان) جو شام کے وقت گائی جاتی ہے ۔ انہی کی ایجاد ہے۔ کہتے یہ کہ ستار پر تیسرا تار آپ ہی نے چڑھایا۔ حضرت خواجہ نظام الدین اولیا کے مرید تھے۔ انھی کے قدموں میں دفن ہوئے۔
کلام ؛ خواجہ امیر خسرو رحمة اللہ علیہ
نمی دانَم چہ منزل بُود، شب جائے کہ من بُودَم
بہ ہر سُو رقصِ بسمل بُود، شب جائے کہ من بودم
میں نہیں جانتا وہ کیا جگہ تھی کل رات میں جہاں تھا، ہر طرف رقصِ بسمل تھا کل رات میں جہاں تھا
پری پیکر نگارے، سرو قدے، لالہ رخسارے
سراپا آفتِ دل بُود، شب جائے کہ من بودم
اک محبوب پری کے جسم جیسا حسیں، سرو کی طرح قد لالہ ،کی طرح رخسار ،سراپا آفتِ دل تھا کل رات میں جہاں تھا۔
رقیباں گوش بر آواز، اُو دَر ناز، من ترساں
سخن گفتَن چہ مشکل بود، شب جائے کہ من بودم
سخن گفتَن چہ مشکل بود، شب جائے کہ من بودم
رقیبوں کے کان آواز کی طرف تھے، وہ ناز میں تھا اورمیں سہما ہواوہاں بات کرنا کیا ہی مشکل تھا کل رات میں جہاں تھا
خدا خود میرِ مجلس بُود اندر لا مکاں خسرو
محمد ﷺ شمعِ محفل بود، شب جائے کہ من بودم
خسرو! لا مکاں میں اللہ تعالٰی خود صدرِ مجلس تھا،حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم شمع محفل تھے، کل رات میں جہاں تھا۔



