Tuesday, 13 August 2019

عذاب دانش حاضر


عذاب دانش حاضر
پاکستانی قوم ترقی کیسے کرے گی؟یہ وہ سوال ہے جس پر ہر کالج یونیورسٹی دفتر دوکان فیکٹری بلکہ چوراہوں اور ہوٹلوں بلکہ جہاں بھی دو شخص فرصت ملنے پر گھنٹوں طبع آزمائی کرتے ہیں اور پھر ٹھنڈی آہ بھر کے اس دعا کے ساتھ مجلس برخاست کردینے ہیں  اللہ ہی اس قوم پر رحم فرمائے۔ہم بھی آمین کہتے ہیں اللہ سے رحم مانگیں ضرور مانگیں لیکن آخر حل ہے کیا۔40 سال تو مجھے ہو گئے یہ بے کار اور بے تکی گفتگو سنتے تو کیوں یہ قوم دن بہ دن پیچھے کی طرف گامزن ہے کیوں اس کے نصیب میں خوشحالی اور ترقی نہیں ۔آئیے غور کریں کہ آخر پاکستانیوں کا مسئلہ ہے کیا جب تک بیماری کی تشخیص نہ ہو علاج تجویز کرنا حماقت ہوتی ہے۔جب ہم لوگوں کی قیاس آرائیوں کو سنتے ہیں تو پتہ چلتا ہے کہ کسی نے کہا اس قوم کا بڑا مسئلہ کرپشن ہے کسی نے کہا جھوٹ ہے کسی نے کہا ناخواندگی ہے کوئی کہتا ہے سائینس وٹیکنالوجی کا فقدان ہے کوئی کہتا ہے ٹیکس چوری بڑا مسئلہ ہے تو کوئی انگریزی سے ناواقفیت کو اس پسماندگی کی وجہ قرار دے رہا ہے۔۔جناب کسی حد تک یہ ساری باتیں بجا مگر انکی حیثیت ثانوی ہے۔آج انٹرنیٹ اور میڈیا کی وجہ سے مختلف اقوام کی تاریخ تک رسائی عام ہونے کی وجہ سے لوگ یہ باتیں کرتے ہیں دیکھیں جی چائینہ نے ایسے ترقی کی روس نے اس طرح امریکہ نے ایسے تو یورپ نے ویسے۔یاد رکھیں جب تک ہم مطلقاً ان ممالک کی نقل کو ہی اپنی ترقی کا راز سمجھتے رہیں گے ہم کبھی منزل تو کیا راستہ بھی نہیں ڈھونڈ سکتے پہلے فیصلہ کریں کہ ہم ہیں کون؟
بس اسی سوال کے جواب میں ہی ہمارے درد کی دوا مل جائے گی۔علامہ اقبال نے کہا تھا نا
اپنی ملت پہ قیاس اقوام مغرب سے نہ کر
جی ہاں جب ہمارے گھر بچہ پیدا ہوتا ہے تو دائی کے بعد سب سے پہلے جو ہمارے گھر آتا ہے وہ ایک مولوی ہوتا ہے جو بچے کے کان میں اذان دینے آیا
گویا کہ اللہ اکبر کی صدا بلند ہوئی تو گھر کی فضا میں یہ اعلان کیا گیا کہ اس گھر میں  اللہ کو سپر پاور ماننے والوں اور ایک اللہ پر ایمان رکھنے والوں  میں ایک اور اضافہ ہوا ہے،محمد الرسول اللہ کا ایک اور امتی آگیا ہے۔اگلا مرحلہ چند ہی دنوں بعد سنت ختنہ اور پھرجب وہ بچہ بولنا شروع کرتا ہے تو اسے بسم اللہ اور کلمہ پڑھایا جاتا ہے قرآن
نماز روزہ زکوٰۃ حج  قربانی اور دیگر اسلامی احکام کے ساتھ زندگی بسر کرتے کرتے جب اجل کا فرشتہ اسے مالک ہی کی طرف لے جاتا ہے تو چار تکبیریں فضا میں بلند ہوتی ہیں اور رسول اللہ کے بتائے ہوئے طریقے سے اس کی آخری رسومات ادا کردی جاتی ہیں۔معذرت کہ بات کچھ لمبی ہو گئی اس سارے سفر کی روداد سنانے کا مقصد صرف اتنا ہے کہ
علامہ اقبال فرماتے ہیں
خاص ہے ترکیب میں قوم رسول ہاشمی
جب یہ قوم ساری اقوام سے الگ ہے اسکی پیدائش سے لیکر اسکی موت تک کے تمام معاملات کسی قوم کے ساتھ مماثلت نہیں رکھتے تو کسی دوسری قوم کے نظام کے ساتھ اس قوم کا گزارہ ناممکن ہے۔اغیار کے نظام ان کے لیے تو مفید ہو سکتے ہیں ہمارے لیے ہرگز نہیں۔
ہمارا شیرازہ بکھرا ہوا ہے ہم مختلف گروہوں اور طبقوں میں تقسیم ہیں ہمارے مسائل کی جڑ مختلف متضاد نظام تعلیم کا رائج ہونا ہے جو سوچی سمجھی سازش کے تحت رائج کیے گئے ہیں تاکہ وحدت کو پارہ پارہ کیا جائے۔اس نظام تعلیم کو اور اس نصاب کو بدلنا ہو گا جس نے ایک جدا گانہ تشخص اور جداگانہ رہن سہن اور رسم رواج کی بنیاد پر ایک ملک حاصل کیا آج اسی ملک میں اسی قوم کو ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت چھوٹے چھوٹے گروہوں میں بانٹ دیا گیا ہے۔  ہر ایک طبقہ دوسرے طبقے کو جاہل نا سمجھ بے وقوف بلکہ اسلام سے بھی فارغ غدار اور نہ جانے کیا کیا کہہ رہا ہے۔ہمیں دشمن اور اسکی چال دونوں کو سمجھنا ہو گا۔ہمیں پھر سے  قوم  کو متحد کرنے پر کام کرنا ہے
چھپا کر آستیں میں بجلیاں رکھی ہیں گردوں نے
عنا دل باغ کے غافل نہ بیٹھیں آشیانوں میں
علامہ اقبال نے جہاں ہمیں اسلامی وحدت ملی کی ضرورت اور اہمیت سے آگاہ کیا تھا وہاں فرنگ کی سازش کے بارے بھی کھل کر بتایا تھا اور اسکا حل بھی وہ فرماتے ہیں
تفریق ملل حکمت افرنگ کا مقصود
اسلام کا مقصود فقط ملت آدم
مکہ نے دیا خاک جینو ا کو یہ پیغام
جمعیت اقوام ہے جمعیت آدم
دور حاضر کی مغرب زدہ تعلیم اور نصاب کو بدل ایسا نظام تعلیم اور ایسا نصاب رائج کرنا ہوگا ہے جو طالبعلموں کیلئے جدید علوم کے حصول کے ساتھ ساتھ انہیں اسلام اور پاکستانیت سے محبت کرنے والا ایک اچھا شہری بنائے گا۔ جس کے زریعے   اسلامی وحدت کو فروغ ملے اور اسی بھائی چارے کی فضا پیدا ہو جو چودہ سو چالیس  برس پہلے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قائم فرمایا تھا  مجودہ کاروباری اور غلامانہ سوچ کے ساتھ تعلیم کی فراہمی کے عظیم اسلامی، قومی، انسانی اور فلاحی مقصد کو حاصل نہیں کیا جا سکتا، عصر حاضر کے سائنسی، سماجی، معاشی رجحانات کے مطابق بچوں کوتعلیمی نصاب نہ پڑھا کر جہالت کے اندھیروں کو مزید گہرا کیا جا رہا ہے۔غیر مسلم تہذیب اور کارناموں کو منصوبہ بندی کے تحت نصاب میں شامل کیا گیا جس سے پاکستانیت اور قابل فخر مسلم تاریخ کو مسخ کیا گیا۔
کس قدر شرم کی بات ہے کہ جس قوم کے پاس اپنا مستقل نظام، فکر و عمل اور ایک مکمل نظام تہذیب وتمدن ہے جس میں زندگی کے جملہ مسائل کا حل تفصیلی یا اصولی طور پر موجود ہے۔ اور ہدایت و راہنمائی حاصل کرنے کے لیے اسے کسی حال میں بھی امریکہ و یورپ کی طرف دیکھنے کی ضرورت نہیں ہے، وہ اپنے اس زریں و جامع ترین نظام کو چھوڑ کر غیروں کے پس خوردہ نظام سے اس ملک میں تبدیلی لانا چاہے تو ہرگز نہیں لا سکتی انہیں سب سے پہلے ایک قوم بننا ہے اخوت و محبت کے رشتے از سر نو استوار کرنے ہیں۔
جب یہ ایک قوم ہوں گے ایک جیسا سوچے گے تو کچھ دور نہیں کہ ان تمام اقوام کا مقابلہ نہ کرسکیں جنہوں نے ترقی اور روشنی کا سفر مسلمانوں کے وضع کردہ اصولو ں پر عمل پیرا ہو کر طےکیا ہے۔کون نہیں جانتا کہ جب مدینہ منورہ میں تا افق روشنی تھی تو یورپ اندھیروں میں ڈوبا ہوا تھا۔غیر ممکن ہے کہ یہ قوم ان اصولوں پر عمل پیرا ہو کر کسی سے پیچھے رہ جائے جو حقیقی ریاست مدینہ نے قائم کیے تھے
تازہ پھردانش حاضر نے کیا سحر قدیم
گزر اس عہد میں ممکن نہیں بے چوب کلیم
عذاب دانش حاضر  سے  باخبر ہوں  میں
کہ میں اس آگ میں ڈالا گیا ہوں مثلِ خلیل

Saturday, 27 January 2018

خادم حسین رضوی کی سیاست میں انٹری

خادم حسین رضوی کی سیاست میں انٹری

اور تحریک لبیک یا رسول اللہ
   
حرفِ اظہار

“کی محمدﷺ سے وفا تو نے تو ہم تیرے ہیں” اقبالؒ کے اس شعر کو تڑپ تڑپ کر بیان کرنے والے علامہ خادم حسین رضوی بریلوی مکتب فکر سے تعلق رکھتے ہیں، مولانا احمد رضا خان بریلوی رحمۃ اللہ علیہ کے مسلک کے امین سمجھے جاتے ہیں، اقبالیات پر کمال عبور حاصل ہے، علامہ رضوی بنیادی طور پر استاد الحدیث اور ماہر نحو و صرف ہیں، زندگی بھر علومِ نبوتﷺ کی خدمت میں گزاری، عمر کے آخری حصے تک گمنام رہے، کیونکہ تعلیم وتعلم تک ہی محدود رہے، علامہ خادم حسین رضوی جامعہ نظامیہ رضویہ لوہاری گیٹ گیٹ لاہور سے فارغ التحصیل ہیں، ان کے استاد حضرت مولانا غلام رسول رضوی ہیں، مولانا خادم حسین رضوی حضرت پیر سید مہر علی شاہ گولڑویؒ کے معتقد خاص ہیں،

علامہ خادم حسین رضوی فقط اصلاحی موضوعات پہ علمی گفتگو کرتے تھے، کبھی کبھار مجالس میں خطاب کرتے تھے، جلسے جلوس کو دیگر بریلوی علماء کے مقابلے میں زیادہ پسند نہیں کرتے تھے، مولانا رضوی ابتداء سے ہی بریلوی مکتب فکر سے منسوب بدعات کے مخالف رہے، قبروں پر ہلہ بولنے، جعلی پیری فقیری اور دیگر خرافات کی مذمت کرنے میں اولین جرات کرنے والے بریلوی علماء میں ان کا نام سرِ فہرست ہے، تعلیم و تقوی میں ڈوبے پچاس سال تک گوشہ نشین رھنے والےخادم حسین رضوی نامی شخص جو صرف لاہور کی سطح تک عوام اور بریلوی مکتب فکر کے علمی طبقات میں اپنی پہچان رکھتے تھے، ایک ایسے وقت میں ابھر کر قومی سطح پر ا بھرے جب چارون طرف ناموسِ رسالتﷺ کا معاملہ اٹھا، مولانا خادم رضوی نے ممتاز قادری شہیدؒ کے بعد نکل کر خانقاہوں سے ادا کر رسمِ شبیری کو اپناتے ہوئے مسندِ تدریس سے اٹھ کر سڑکوں پہ نکلنے کا آغاز کیا، پورے بریلوی مکتب فکر کے نامور علماء ، تنظیمی راہنماؤں اور پیروں کے ہوتے ہوئے بھی اس گمنام شخص نے اٹھ کر ممتاز قادریؒ کا کیس اپنے سر لیا، 2011 سے 2016 تک ممتاز قادری کا کیس دن رات ہر طرح سے لڑے، اس کیلئے “تحریکِ رہائی ممتاز قادری” چلائی، جس کے  بعد خادم رضوی صاحب ایک دو ٹوک مؤقف رکھنے والے قومی مذہبی رہنماء کے طور پر ابھرے، اپنے دو ٹوک مؤقف  سے ہٹ کر جراتمندانہ مؤقف رکھنے، پر سیاسی جماعتں بھی ان سے خائف رہنے لگے، بریلویوں کا عوامی طبقہ مولانا رضوی کا گرویدہ ہوگیا
شاید پہلی بار بریلوی علماء میں ایسا بندہ سامنے آیا جس نے جہاد کی بات بھی کی، جس نے برماِ شام، عراق، افغانستان، کشمیر، بوسنیا، چیچنیا ، فلسطین اور دنیا بھر کے مسلمانوں کیلئے آواز اٹھائی، مولانا رضوی نظامِ خلافتِ راشدہ کے قائل اور ببانگ دہل اس کی دعوت دینے والے ہیں، مولانا رضوی چند سال قبل ایک ٹریفک حادثے میں اپنی دونوں ٹانگیں گنوا بیٹھے، جس کے بعد ہمیشہ کیلئے ویل چئیر کے رحم و کرم پر رہ گئے، لیکن کمال استقامت سے  اسی معذوری کی حالت میں ممتاز قادریؒ کا کیس مسلسل چھ سال تک لڑتے رہے،امریکہ اور پاکستان کی حکومت دونوں ٹانگوں سے معذور اس شخص سے خوفزدہ ھے گزشتہ دنوں ایک بیان میں امریکی سفیر نے تحریک لبیک یا رسول اللہ کو فلسطین کے طرح پاکستان کی حماس کہاھے ممتاز قادری کی پھآنسی ن تحریکِ ناموسِ رسالتﷺ کو ایک نئی روح پھونک دی، مولانا رضوی کے متعلق سخت گو ہونے کی باتیں مشہور ہیں، لیکن ان کے لہجے میں خودداری، متانت، دلیل اور کھرا پن موجود ہے، کسی بھی بات کیلئے قرآن و حدیث کو بطورِ دلیل پیش کرتے ، علامہ اقبالؒ کے دیوانے ہیں، اقبالؒ کا تمام کلام جیسے انہیں زبانی حفظ ہے، جس روانی سے بات بات پہ اقبالؒ کا کلام اس طرح سناتے ہیں، جیسے اقبالؒ ہی ان کا تکیہ کلام ہو، میری ان سے متاثر ہونے کی ایک بڑی وجہ اقبالؒ پسندی بھی ہے، بہرکیف رضوی صاحب اس معذوری کے عالم میں بارہا قید وبند کی صعوبتیں برداشت کیں، اور بالآخر تنگ آمد بہ جنگ آمد کے مصداق میدانِ سیاست میں اترنے کا فیصلہ کرتے ہوئے ناموسِ رسالتﷺ اور نظامِ مصطفیٰﷺ کو نصب العین بنا کر تحریک لبیک یارسول اللہﷺ کا پلیٹ فارم تشکیل دیا، اس تحریک کو سیاسی تحریک میں بدلنے کا ایک تاریخی جلسہ لاہور ، اور پھر کراچی میں ہوا، اس وقت پنجاب میں بالخصوص اور ملک بھر سمیت آزاد کشمیر میں لاکھوں کے حلقوں میں مولانا خادم رضوی کو تیزی سے مقبولیت حاصل ہورہی ہے، اس وقت بریلوی مکتب فکر کا ایک بڑا طبقہ اپنا مرشد و مربی مانتا ہے۔کیو نکہ ممتاز قادری کے پھانسی کے بعد مسلم لیگ پی پی ایم کیو ایم میں شامل سنی بریلوی حضرات شدید ناراض ھیں۔ پنجاب کے حلقہ این اے 120 کے انتخابی نتایج
اس بات کے گواہ ھے تحریک لبیک یارسول اللہ نے بے سرو سامانی کے عالم میں جن کے پاس کوی انتخابی وسائل بھی نہ تھے۔نہ الیکشن کا تجربہ جس کا وجود ممتاز قادری کے شھادت سے شروع ھو چکاتھا۔اور انکو انتخابی نشان صرف الیکشن سے ایک ماہ قبل الاٹ ھوا۔ اس کے باوجود یہ علامہ خادم حسین رضوی کی زبردست حمکت عملی کے وجہ سے 70 سال سے کام کرنے والی 46  سیاسی تنظیموں کو پیچھے چھوڑ دیا اور تیسرے نمبر پر آگئ۔اور عالمی میڈیا اور پاکستانی میڈیاں کی کوریج حاصل کرنے میں کامیاب ھو چکی ھے۔

علامہ خادم حسین رضوی حکومتی جبر، ریاستی تشدد اور علامی استعمار کے کڑے ناقد ہیں، جس کی وجہ سے انہیں ریاستی جبر اور اپنے بیگانوں کی بے رخی کا سامنا بھی رہتا ہے، علامہ خادم حسین رضوی سیکیولرازم ، لبرل ازم اور قادیانیت کیخلاف برسرِپیکار رہتے ہیں، بالخصوص قانونِ توہینِ رسالتﷺ کی تبدیلی میں کوشاں طبقہ علامہ رضوی سے نہایت شاکی رہتا ہے__
ارباز علی خان


Friday, 24 August 2012



با احد در لحدِ تنگ بگوئیم کہ دوست     
آشنائیم توئی غیر تو بیگانۂ ما


قبر میں رب سے کہوں گا مرے پیارے محسن
آشنا تو ہی ہے اس قبر کے ویرانے میں

گر نکیر آید و پرسد کہ بگو ربِ تو کیست
گویم آنکس کہ ربود ایں دلِ دیوانۂ ما


میں نکیرین کی پرسش پہ کہوں کا ہے وہ رب
جو کے پنہاں ہے مرے درد کے افسانے میں

شکر للہ نمردیم و رسیدیم بدوست
آفریں باد بریں ہمتے مردانۂ ما


شکر اللہ کے بے موت ہوا وصل مجھے
اتنی ہمت تو ہوئی آپ کے دیوانے میں

محی بر شمع تجلائیِ جمالش می سوخت
دوست میگفت زہی ہمتِ مردانۂ ما


تابشِ نور تجلا نے جلایا محی
کتنی جرات ہے مرے اس طرح جل جانے میں

از حضرت محی الدین عبد القادر جیلانی رحمۃ اللہ علیہ

Friday, 20 April 2012

حضرت خواجہ نظام الدین اولیاءمحبوب الٰہی رحمۃاللہ علیہ


آپ کا اصل نام سید محمد نظام الدین، والد کا نام سید احمد بخاری ہے۔ آپ کے القابات 'نظام الاولیاء، محبوب الہی، سلطان المشائخ، سلطان الاولیاء مشہور ہیں۔آپکی ولادت 636ھ اور وفات 725ھ میں ہوئی۔آپ کے جدِ امجد سید علی بخاری اور نانا خواجہ عرب بخارا سے ہجرت کرکے بدایوں پہنچے۔آپ نے قرآن کریم کا ایک پارہ مقری بدایونی سے پڑھا اس کے بعد مولانا علاؤالدین اصولی سے مختصر القدوری پڑھی۔ مشارق الانوار کی سند مولانا کمال الدین سے حاصل کی۔ اس کے بعد دہلی آکر خواجہ نجیب الدین متوکل سے صحبت رہی۔ یہیں شمس الدین خوازمی سے تحصیل علم کی۔ظاہری علوم کے حصول کے بعد آپ نے بیس سال کی عمر میں اجودھن موجودہ پاکپتن حضرت بابا فرید الدین گنج شکر کی بارگاہ میں حاضر ہوئے۔آپ کو دیکھ کر حضرت بابا فرید الدین گنج شکر نے یہ شعر پڑھا:

اے آتش فراغت دل ہا کباب کردہ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ سیلاب اشتیاقت جا نہا خراب کردہ

پیر و مرشد سے بیعت ہو کر 6 پارے اور عوارف کے 6 باب تمہید ابو شکور سلمی اور بعض دوسری کتابیں پڑھیں اور باطنی علوم کے حصول کے بعد خلافت حاصل کی۔ پیر و مرشد کے حکم پر ہی دہلی آکر محلہ غیاث پورہ میں مستقل سکونت اختیار کی۔ سلوک و معرفت کی تمام منزلیں حاصل کرنے کے باوجود آپ نے تیس سال تک نہایت ہی سخت مجاہدہ کیا۔حضرت امیر خسرو آپ کے مشہور ترین خلیفہ ہیں۔

آپکی تصانیف فوائد الفواد فصل الفواد راحت المحبین سیر الاولیاء ہیں۔

آپکے چند خوبصورت اشعار:

               صبا بسوی مدینه رو کن از این دعاگو سلام برخواں
                         به گردِ شاه رسل بگرد و به صد تضرع پیام برخواں 


          اے صبا مدینہ شریف کا رخ کر اور اس عاجز کا سلام انکی بارگاہ میں پیش کرنا
             رسولوں کے بادشاہ کے گرد پھیرا لگا کر انتہائی عاجزی سے عرض گزارنا

                       به بابِ رحمت گہی گذرکن به بابِ جبریل گہ جبین ساز
                           سلام ربی علٰی نبی گہی بباب سلام بر خواں

            کبھی باب رحمت سے گزرنا تو کبھی باب جبریل پہ جبیں سائی کرنا
                 اور کبھی تو باب سلام پہ جا کر نبی محتشم پر سلام بھیجنا۔

                        بشو ز من صورت مثالی نماز بگزار اندر آں جا
                       بہ لحن خوش سورہ محمد تمام اندر قیام بر خواں

          وہاں اندر جا کر میری مثالی صورت بنا کر نماز ادا کرنا قیام میں
                   خوبصورت لحن کیساتھ مکمل سورہ محمد تلاوت کرنا۔

                           به لحنِ داؤد ہم نوا شوبه ناله درد آشنا شو
                       بہ بزم پیغمبر این غزل رازعبد عاجزنظام برخواں

            لحن داؤد سے ہمنوا ہو کر اور اپنے اندر سوز و گداز پیدا کر کے
          حضور کی مجلس میں اس عبد عاجز نظام الدین کی عرض پیش کرنا.

      

 

 

 

Thursday, 19 April 2012

خواجہ امیر خسرو رحمة اللہ علیہ



ابو الحسن یمین الدین امیر خسرو کا نامِ نامی کسی تعارف کا محتاج نہیں ہے۔ ان جیسی نابغہِ روزگار، کثیر الجہتی، ہمہ گیر اور متنوع شخصیات صدیوں میں پیدا ہوتی ہیں۔ والد ایک ترک سردار تھے۔ منگولوں کے حملوں کے وقت ہندوستان آئے اور پٹیالی (آگرہ) میں سکونت اختیار کی۔ امیر خسرو یہیں پیدا ہوئے۔ ان کى والدہ ہندوستانی تھیں۔ کچھ عرصے بعد یہ خاندان دہلی منتقل ہوگیا اور امیرخسرو نے سلطنت دہلی (خاندان غلمان، خليجی ، اورتغلق) کے آٹھ بادشاہوں کا زمانہ دیکھا اور برصغیر میں اسلامی سلطنت کے ابتدائی ادوار کی سیاسی، سماجی اور ثقافتی زندگی میں سرگرم حصہ لیا۔آپکی پیدائش: 1253ءاوروفات: 1325ء بتائی جاتی ہے۔خسرو نے ہر صنف شعر ، مثنوی ، قصیدہ ، غزل ، ہندی دوہے ،پہیلیاں ، گیت وغیرہ میں طبع آزمائی کی۔ غزل میں پانچ دیوان یادگارچھوڑے۔ ہندوستانی موسیقی میں ترانہ ، قول اور قلبانہ انہی کی ایجاد ہے۔ بعض ہندوستانی راگنیوں میں ہندوستانی پیوند لگائے۔ راگنی (ایمن کلیان) جو شام کے وقت گائی جاتی ہے ۔ انہی کی ایجاد ہے۔ کہتے یہ کہ ستار پر تیسرا تار آپ ہی نے چڑھایا۔ حضرت خواجہ نظام الدین اولیا کے مرید تھے۔ انھی کے قدموں میں دفن ہوئے۔


 کلام ؛ خواجہ امیر خسرو  رحمة اللہ علیہ


نمی دانَم چہ منزل بُود، شب جائے کہ من بُودَم
بہ ہر سُو رقصِ بسمل بُود، شب جائے کہ من بودم
 
میں نہیں جانتا وہ کیا جگہ تھی  کل رات میں جہاں تھا، ہر طرف رقصِ بسمل  تھا کل رات میں جہاں تھا


پری پیکر نگارے، سرو قدے، لالہ رخسارے
سراپا آفتِ دل بُود، شب جائے کہ من بودم


اک محبوب پری کے جسم جیسا حسیں، سرو کی طرح قد لالہ ،کی طرح رخسار ،سراپا آفتِ دل تھا کل رات میں جہاں تھا۔
 

رقیباں گوش بر آواز، اُو دَر ناز، من ترساں
سخن گفتَن چہ مشکل بود، شب جائے کہ من بودم
 

رقیبوں کے کان  آواز کی طرف تھے، وہ ناز میں تھا اورمیں سہما ہواوہاں بات کرنا کیا ہی مشکل تھا  کل رات میں جہاں تھا


خدا خود میرِ مجلس بُود اندر لا مکاں خسرو
محمد
ﷺ شمعِ محفل بود، شب جائے کہ من بودم


 خسرو! لا مکاں میں اللہ تعالٰی خود صدرِ مجلس تھا،حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم شمع محفل تھے، کل رات میں جہاں تھا۔

حضرت شاہ نیاز احمد علوی بریلوی

                                  
رفتم اندر تہِ خاک انسِ بتانم باقیست                      
عشق جانم بر بود آفتِ جانم باقیست                      

میں خاک کے نیچے چلا گیا لیکن بتوں کی محبت باقی ہے ۔عشق نے میری جان لے لی لیکن میری آفتِ جان باقی ہے۔

سرو سامان وجودم شرر عشق بسوخت                   
زیرِ خاکسترِ دل سوزِ نہانم باقیست                     

میرے وجود کے سروسامان کو عشق کی آگ نے جلادیالیکن اس جلے ہوئےدل کی خاک کے نیچے چھپی ہوئی جلنباقی ہے۔

کاروانم ہمہ بگزشت زمیدانِ شہود                     
ہمچو نقشِ کفِ پا نام و نشانم باقیست                   

تمام قافلہ اس موجود دنیاسے گزر گیا لیکن کفِ پا کے نشانات کی طرح صرف میرا نام ونشان باقی ہے۔

ہستیم جملہ خیالست بتمثال سراب                     
بالیقین من نیم و وہم و گمانم باقیست                   

میری ہستی تمام تر خیال ہے بالکل سراب کی طرح۔سچ یہ ہے کہ میرا تو کچھ وجود نہیں صرف وہم و گمان باقی ہے۔

طمع فاتحہ از خلق نہ داریم نیاز                        
عشقِ من در پسِ من فاتحہ خوانم باقیست                  

اے نیاز مجھے قطعی اس کی لالچ نہیں کہ لوگ مجھ پر فاتحہ پڑھیں۔اس لئے کہ خود میرا عشق میرے بعد مجھ پر فاتحہ خوانی کے لئے باقی ہے۔

حضرت شاہ نیاز احمد علوی بریلوی


حضرت شاہ نیاز احمد علوی بریلوی قادری چشتی فخری نظامی صابری سہروردی نقشبندی قدس سرہ العزیز 1742 میں پیدا ہوئے۔ صوفی منش تھے۔ چشتی نظامی سلسلہ میں مولانا فخرالدین دہلوی سے خلافت و اجازت حاصل کی۔ کچھ عرصہ دہلی میں علومِ دینیہ کے مدرّس بھی رہے۔ 95 برس کی عمر میں 1837 میں وفات پائی۔ ان کا فارسی اور اردو میں کلام موجود ہے اور وہ روحانی حلقوں کے علاوہ علمی و ادبی حلقوں میں بھی تعظیم و توقیر کی نگاہوں سے دیکھے جاتے ہیں۔
 ای دل بگیر دامن سلطان اولیا
                                  یعنی حسین ابن علی جان اولیا
                                                                                       
        اے دل سلطان اولیا کا دامن تھام لےیعنی حسین ابن علی جواولیا کی جان ہیں                       

                                  ذوقے دگر بجام شہادت از رسید
                                  شوقے دگر بمستی عرفان اولیا

 جو  منفرد ذوق سےجام شہادت تک پہنچے اور اپنی منشا اورکمال شوق سےعرفان اولیا کے حامل  ہوئے           

                                  چوں صاحب مقام نبی و علیستاو
                                    ہم فخر انبیا شدہ ہم شان اولیا

           ایسے صاحب مقام نبی و علی ہیں کہ جن پر انبیا و اولیا کو فخر ہے

                                     آئینہ جمال الٰہی ست صورتش
                                    زانرو شدہ است قبلہ ایمان اولیا

          آپکی صورت آئینہ جمال الٰہی ہےاولیا کے قبلہ ایمان کا حوالہ و پہچان آپ ہیں

                                   دارد نیاز حشر خود امید با حسین
                                      با اولیاست حشر محبان اولیا

نیازحضرت امام حسین کے ساتھ اپنے حساب کی امید رکھتا ہےکہ اولیا سے محبت رکھنے والوں کا حساب اولیا کے ساتھ ہو گا