Saturday, 27 January 2018

خادم حسین رضوی کی سیاست میں انٹری

خادم حسین رضوی کی سیاست میں انٹری

اور تحریک لبیک یا رسول اللہ
   
حرفِ اظہار

“کی محمدﷺ سے وفا تو نے تو ہم تیرے ہیں” اقبالؒ کے اس شعر کو تڑپ تڑپ کر بیان کرنے والے علامہ خادم حسین رضوی بریلوی مکتب فکر سے تعلق رکھتے ہیں، مولانا احمد رضا خان بریلوی رحمۃ اللہ علیہ کے مسلک کے امین سمجھے جاتے ہیں، اقبالیات پر کمال عبور حاصل ہے، علامہ رضوی بنیادی طور پر استاد الحدیث اور ماہر نحو و صرف ہیں، زندگی بھر علومِ نبوتﷺ کی خدمت میں گزاری، عمر کے آخری حصے تک گمنام رہے، کیونکہ تعلیم وتعلم تک ہی محدود رہے، علامہ خادم حسین رضوی جامعہ نظامیہ رضویہ لوہاری گیٹ گیٹ لاہور سے فارغ التحصیل ہیں، ان کے استاد حضرت مولانا غلام رسول رضوی ہیں، مولانا خادم حسین رضوی حضرت پیر سید مہر علی شاہ گولڑویؒ کے معتقد خاص ہیں،

علامہ خادم حسین رضوی فقط اصلاحی موضوعات پہ علمی گفتگو کرتے تھے، کبھی کبھار مجالس میں خطاب کرتے تھے، جلسے جلوس کو دیگر بریلوی علماء کے مقابلے میں زیادہ پسند نہیں کرتے تھے، مولانا رضوی ابتداء سے ہی بریلوی مکتب فکر سے منسوب بدعات کے مخالف رہے، قبروں پر ہلہ بولنے، جعلی پیری فقیری اور دیگر خرافات کی مذمت کرنے میں اولین جرات کرنے والے بریلوی علماء میں ان کا نام سرِ فہرست ہے، تعلیم و تقوی میں ڈوبے پچاس سال تک گوشہ نشین رھنے والےخادم حسین رضوی نامی شخص جو صرف لاہور کی سطح تک عوام اور بریلوی مکتب فکر کے علمی طبقات میں اپنی پہچان رکھتے تھے، ایک ایسے وقت میں ابھر کر قومی سطح پر ا بھرے جب چارون طرف ناموسِ رسالتﷺ کا معاملہ اٹھا، مولانا خادم رضوی نے ممتاز قادری شہیدؒ کے بعد نکل کر خانقاہوں سے ادا کر رسمِ شبیری کو اپناتے ہوئے مسندِ تدریس سے اٹھ کر سڑکوں پہ نکلنے کا آغاز کیا، پورے بریلوی مکتب فکر کے نامور علماء ، تنظیمی راہنماؤں اور پیروں کے ہوتے ہوئے بھی اس گمنام شخص نے اٹھ کر ممتاز قادریؒ کا کیس اپنے سر لیا، 2011 سے 2016 تک ممتاز قادری کا کیس دن رات ہر طرح سے لڑے، اس کیلئے “تحریکِ رہائی ممتاز قادری” چلائی، جس کے  بعد خادم رضوی صاحب ایک دو ٹوک مؤقف رکھنے والے قومی مذہبی رہنماء کے طور پر ابھرے، اپنے دو ٹوک مؤقف  سے ہٹ کر جراتمندانہ مؤقف رکھنے، پر سیاسی جماعتں بھی ان سے خائف رہنے لگے، بریلویوں کا عوامی طبقہ مولانا رضوی کا گرویدہ ہوگیا
شاید پہلی بار بریلوی علماء میں ایسا بندہ سامنے آیا جس نے جہاد کی بات بھی کی، جس نے برماِ شام، عراق، افغانستان، کشمیر، بوسنیا، چیچنیا ، فلسطین اور دنیا بھر کے مسلمانوں کیلئے آواز اٹھائی، مولانا رضوی نظامِ خلافتِ راشدہ کے قائل اور ببانگ دہل اس کی دعوت دینے والے ہیں، مولانا رضوی چند سال قبل ایک ٹریفک حادثے میں اپنی دونوں ٹانگیں گنوا بیٹھے، جس کے بعد ہمیشہ کیلئے ویل چئیر کے رحم و کرم پر رہ گئے، لیکن کمال استقامت سے  اسی معذوری کی حالت میں ممتاز قادریؒ کا کیس مسلسل چھ سال تک لڑتے رہے،امریکہ اور پاکستان کی حکومت دونوں ٹانگوں سے معذور اس شخص سے خوفزدہ ھے گزشتہ دنوں ایک بیان میں امریکی سفیر نے تحریک لبیک یا رسول اللہ کو فلسطین کے طرح پاکستان کی حماس کہاھے ممتاز قادری کی پھآنسی ن تحریکِ ناموسِ رسالتﷺ کو ایک نئی روح پھونک دی، مولانا رضوی کے متعلق سخت گو ہونے کی باتیں مشہور ہیں، لیکن ان کے لہجے میں خودداری، متانت، دلیل اور کھرا پن موجود ہے، کسی بھی بات کیلئے قرآن و حدیث کو بطورِ دلیل پیش کرتے ، علامہ اقبالؒ کے دیوانے ہیں، اقبالؒ کا تمام کلام جیسے انہیں زبانی حفظ ہے، جس روانی سے بات بات پہ اقبالؒ کا کلام اس طرح سناتے ہیں، جیسے اقبالؒ ہی ان کا تکیہ کلام ہو، میری ان سے متاثر ہونے کی ایک بڑی وجہ اقبالؒ پسندی بھی ہے، بہرکیف رضوی صاحب اس معذوری کے عالم میں بارہا قید وبند کی صعوبتیں برداشت کیں، اور بالآخر تنگ آمد بہ جنگ آمد کے مصداق میدانِ سیاست میں اترنے کا فیصلہ کرتے ہوئے ناموسِ رسالتﷺ اور نظامِ مصطفیٰﷺ کو نصب العین بنا کر تحریک لبیک یارسول اللہﷺ کا پلیٹ فارم تشکیل دیا، اس تحریک کو سیاسی تحریک میں بدلنے کا ایک تاریخی جلسہ لاہور ، اور پھر کراچی میں ہوا، اس وقت پنجاب میں بالخصوص اور ملک بھر سمیت آزاد کشمیر میں لاکھوں کے حلقوں میں مولانا خادم رضوی کو تیزی سے مقبولیت حاصل ہورہی ہے، اس وقت بریلوی مکتب فکر کا ایک بڑا طبقہ اپنا مرشد و مربی مانتا ہے۔کیو نکہ ممتاز قادری کے پھانسی کے بعد مسلم لیگ پی پی ایم کیو ایم میں شامل سنی بریلوی حضرات شدید ناراض ھیں۔ پنجاب کے حلقہ این اے 120 کے انتخابی نتایج
اس بات کے گواہ ھے تحریک لبیک یارسول اللہ نے بے سرو سامانی کے عالم میں جن کے پاس کوی انتخابی وسائل بھی نہ تھے۔نہ الیکشن کا تجربہ جس کا وجود ممتاز قادری کے شھادت سے شروع ھو چکاتھا۔اور انکو انتخابی نشان صرف الیکشن سے ایک ماہ قبل الاٹ ھوا۔ اس کے باوجود یہ علامہ خادم حسین رضوی کی زبردست حمکت عملی کے وجہ سے 70 سال سے کام کرنے والی 46  سیاسی تنظیموں کو پیچھے چھوڑ دیا اور تیسرے نمبر پر آگئ۔اور عالمی میڈیا اور پاکستانی میڈیاں کی کوریج حاصل کرنے میں کامیاب ھو چکی ھے۔

علامہ خادم حسین رضوی حکومتی جبر، ریاستی تشدد اور علامی استعمار کے کڑے ناقد ہیں، جس کی وجہ سے انہیں ریاستی جبر اور اپنے بیگانوں کی بے رخی کا سامنا بھی رہتا ہے، علامہ خادم حسین رضوی سیکیولرازم ، لبرل ازم اور قادیانیت کیخلاف برسرِپیکار رہتے ہیں، بالخصوص قانونِ توہینِ رسالتﷺ کی تبدیلی میں کوشاں طبقہ علامہ رضوی سے نہایت شاکی رہتا ہے__
ارباز علی خان