Friday, 20 April 2012

حضرت خواجہ نظام الدین اولیاءمحبوب الٰہی رحمۃاللہ علیہ


آپ کا اصل نام سید محمد نظام الدین، والد کا نام سید احمد بخاری ہے۔ آپ کے القابات 'نظام الاولیاء، محبوب الہی، سلطان المشائخ، سلطان الاولیاء مشہور ہیں۔آپکی ولادت 636ھ اور وفات 725ھ میں ہوئی۔آپ کے جدِ امجد سید علی بخاری اور نانا خواجہ عرب بخارا سے ہجرت کرکے بدایوں پہنچے۔آپ نے قرآن کریم کا ایک پارہ مقری بدایونی سے پڑھا اس کے بعد مولانا علاؤالدین اصولی سے مختصر القدوری پڑھی۔ مشارق الانوار کی سند مولانا کمال الدین سے حاصل کی۔ اس کے بعد دہلی آکر خواجہ نجیب الدین متوکل سے صحبت رہی۔ یہیں شمس الدین خوازمی سے تحصیل علم کی۔ظاہری علوم کے حصول کے بعد آپ نے بیس سال کی عمر میں اجودھن موجودہ پاکپتن حضرت بابا فرید الدین گنج شکر کی بارگاہ میں حاضر ہوئے۔آپ کو دیکھ کر حضرت بابا فرید الدین گنج شکر نے یہ شعر پڑھا:

اے آتش فراغت دل ہا کباب کردہ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ سیلاب اشتیاقت جا نہا خراب کردہ

پیر و مرشد سے بیعت ہو کر 6 پارے اور عوارف کے 6 باب تمہید ابو شکور سلمی اور بعض دوسری کتابیں پڑھیں اور باطنی علوم کے حصول کے بعد خلافت حاصل کی۔ پیر و مرشد کے حکم پر ہی دہلی آکر محلہ غیاث پورہ میں مستقل سکونت اختیار کی۔ سلوک و معرفت کی تمام منزلیں حاصل کرنے کے باوجود آپ نے تیس سال تک نہایت ہی سخت مجاہدہ کیا۔حضرت امیر خسرو آپ کے مشہور ترین خلیفہ ہیں۔

آپکی تصانیف فوائد الفواد فصل الفواد راحت المحبین سیر الاولیاء ہیں۔

آپکے چند خوبصورت اشعار:

               صبا بسوی مدینه رو کن از این دعاگو سلام برخواں
                         به گردِ شاه رسل بگرد و به صد تضرع پیام برخواں 


          اے صبا مدینہ شریف کا رخ کر اور اس عاجز کا سلام انکی بارگاہ میں پیش کرنا
             رسولوں کے بادشاہ کے گرد پھیرا لگا کر انتہائی عاجزی سے عرض گزارنا

                       به بابِ رحمت گہی گذرکن به بابِ جبریل گہ جبین ساز
                           سلام ربی علٰی نبی گہی بباب سلام بر خواں

            کبھی باب رحمت سے گزرنا تو کبھی باب جبریل پہ جبیں سائی کرنا
                 اور کبھی تو باب سلام پہ جا کر نبی محتشم پر سلام بھیجنا۔

                        بشو ز من صورت مثالی نماز بگزار اندر آں جا
                       بہ لحن خوش سورہ محمد تمام اندر قیام بر خواں

          وہاں اندر جا کر میری مثالی صورت بنا کر نماز ادا کرنا قیام میں
                   خوبصورت لحن کیساتھ مکمل سورہ محمد تلاوت کرنا۔

                           به لحنِ داؤد ہم نوا شوبه ناله درد آشنا شو
                       بہ بزم پیغمبر این غزل رازعبد عاجزنظام برخواں

            لحن داؤد سے ہمنوا ہو کر اور اپنے اندر سوز و گداز پیدا کر کے
          حضور کی مجلس میں اس عبد عاجز نظام الدین کی عرض پیش کرنا.

      

 

 

 

Thursday, 19 April 2012

خواجہ امیر خسرو رحمة اللہ علیہ



ابو الحسن یمین الدین امیر خسرو کا نامِ نامی کسی تعارف کا محتاج نہیں ہے۔ ان جیسی نابغہِ روزگار، کثیر الجہتی، ہمہ گیر اور متنوع شخصیات صدیوں میں پیدا ہوتی ہیں۔ والد ایک ترک سردار تھے۔ منگولوں کے حملوں کے وقت ہندوستان آئے اور پٹیالی (آگرہ) میں سکونت اختیار کی۔ امیر خسرو یہیں پیدا ہوئے۔ ان کى والدہ ہندوستانی تھیں۔ کچھ عرصے بعد یہ خاندان دہلی منتقل ہوگیا اور امیرخسرو نے سلطنت دہلی (خاندان غلمان، خليجی ، اورتغلق) کے آٹھ بادشاہوں کا زمانہ دیکھا اور برصغیر میں اسلامی سلطنت کے ابتدائی ادوار کی سیاسی، سماجی اور ثقافتی زندگی میں سرگرم حصہ لیا۔آپکی پیدائش: 1253ءاوروفات: 1325ء بتائی جاتی ہے۔خسرو نے ہر صنف شعر ، مثنوی ، قصیدہ ، غزل ، ہندی دوہے ،پہیلیاں ، گیت وغیرہ میں طبع آزمائی کی۔ غزل میں پانچ دیوان یادگارچھوڑے۔ ہندوستانی موسیقی میں ترانہ ، قول اور قلبانہ انہی کی ایجاد ہے۔ بعض ہندوستانی راگنیوں میں ہندوستانی پیوند لگائے۔ راگنی (ایمن کلیان) جو شام کے وقت گائی جاتی ہے ۔ انہی کی ایجاد ہے۔ کہتے یہ کہ ستار پر تیسرا تار آپ ہی نے چڑھایا۔ حضرت خواجہ نظام الدین اولیا کے مرید تھے۔ انھی کے قدموں میں دفن ہوئے۔


 کلام ؛ خواجہ امیر خسرو  رحمة اللہ علیہ


نمی دانَم چہ منزل بُود، شب جائے کہ من بُودَم
بہ ہر سُو رقصِ بسمل بُود، شب جائے کہ من بودم
 
میں نہیں جانتا وہ کیا جگہ تھی  کل رات میں جہاں تھا، ہر طرف رقصِ بسمل  تھا کل رات میں جہاں تھا


پری پیکر نگارے، سرو قدے، لالہ رخسارے
سراپا آفتِ دل بُود، شب جائے کہ من بودم


اک محبوب پری کے جسم جیسا حسیں، سرو کی طرح قد لالہ ،کی طرح رخسار ،سراپا آفتِ دل تھا کل رات میں جہاں تھا۔
 

رقیباں گوش بر آواز، اُو دَر ناز، من ترساں
سخن گفتَن چہ مشکل بود، شب جائے کہ من بودم
 

رقیبوں کے کان  آواز کی طرف تھے، وہ ناز میں تھا اورمیں سہما ہواوہاں بات کرنا کیا ہی مشکل تھا  کل رات میں جہاں تھا


خدا خود میرِ مجلس بُود اندر لا مکاں خسرو
محمد
ﷺ شمعِ محفل بود، شب جائے کہ من بودم


 خسرو! لا مکاں میں اللہ تعالٰی خود صدرِ مجلس تھا،حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم شمع محفل تھے، کل رات میں جہاں تھا۔

حضرت شاہ نیاز احمد علوی بریلوی

                                  
رفتم اندر تہِ خاک انسِ بتانم باقیست                      
عشق جانم بر بود آفتِ جانم باقیست                      

میں خاک کے نیچے چلا گیا لیکن بتوں کی محبت باقی ہے ۔عشق نے میری جان لے لی لیکن میری آفتِ جان باقی ہے۔

سرو سامان وجودم شرر عشق بسوخت                   
زیرِ خاکسترِ دل سوزِ نہانم باقیست                     

میرے وجود کے سروسامان کو عشق کی آگ نے جلادیالیکن اس جلے ہوئےدل کی خاک کے نیچے چھپی ہوئی جلنباقی ہے۔

کاروانم ہمہ بگزشت زمیدانِ شہود                     
ہمچو نقشِ کفِ پا نام و نشانم باقیست                   

تمام قافلہ اس موجود دنیاسے گزر گیا لیکن کفِ پا کے نشانات کی طرح صرف میرا نام ونشان باقی ہے۔

ہستیم جملہ خیالست بتمثال سراب                     
بالیقین من نیم و وہم و گمانم باقیست                   

میری ہستی تمام تر خیال ہے بالکل سراب کی طرح۔سچ یہ ہے کہ میرا تو کچھ وجود نہیں صرف وہم و گمان باقی ہے۔

طمع فاتحہ از خلق نہ داریم نیاز                        
عشقِ من در پسِ من فاتحہ خوانم باقیست                  

اے نیاز مجھے قطعی اس کی لالچ نہیں کہ لوگ مجھ پر فاتحہ پڑھیں۔اس لئے کہ خود میرا عشق میرے بعد مجھ پر فاتحہ خوانی کے لئے باقی ہے۔

حضرت شاہ نیاز احمد علوی بریلوی


حضرت شاہ نیاز احمد علوی بریلوی قادری چشتی فخری نظامی صابری سہروردی نقشبندی قدس سرہ العزیز 1742 میں پیدا ہوئے۔ صوفی منش تھے۔ چشتی نظامی سلسلہ میں مولانا فخرالدین دہلوی سے خلافت و اجازت حاصل کی۔ کچھ عرصہ دہلی میں علومِ دینیہ کے مدرّس بھی رہے۔ 95 برس کی عمر میں 1837 میں وفات پائی۔ ان کا فارسی اور اردو میں کلام موجود ہے اور وہ روحانی حلقوں کے علاوہ علمی و ادبی حلقوں میں بھی تعظیم و توقیر کی نگاہوں سے دیکھے جاتے ہیں۔
 ای دل بگیر دامن سلطان اولیا
                                  یعنی حسین ابن علی جان اولیا
                                                                                       
        اے دل سلطان اولیا کا دامن تھام لےیعنی حسین ابن علی جواولیا کی جان ہیں                       

                                  ذوقے دگر بجام شہادت از رسید
                                  شوقے دگر بمستی عرفان اولیا

 جو  منفرد ذوق سےجام شہادت تک پہنچے اور اپنی منشا اورکمال شوق سےعرفان اولیا کے حامل  ہوئے           

                                  چوں صاحب مقام نبی و علیستاو
                                    ہم فخر انبیا شدہ ہم شان اولیا

           ایسے صاحب مقام نبی و علی ہیں کہ جن پر انبیا و اولیا کو فخر ہے

                                     آئینہ جمال الٰہی ست صورتش
                                    زانرو شدہ است قبلہ ایمان اولیا

          آپکی صورت آئینہ جمال الٰہی ہےاولیا کے قبلہ ایمان کا حوالہ و پہچان آپ ہیں

                                   دارد نیاز حشر خود امید با حسین
                                      با اولیاست حشر محبان اولیا

نیازحضرت امام حسین کے ساتھ اپنے حساب کی امید رکھتا ہےکہ اولیا سے محبت رکھنے والوں کا حساب اولیا کے ساتھ ہو گا




 

حافظ محمد شیرازی


حافظ محمد شیرازی کا نام محمد ،لقب شمس الدین اور تخلص حافظ تھا ۔ حافظ نے خود اپنا نام یوں تحریر کیا ہے : محمد بن المقلب بہ شمس الحافظ الشیرازی ۔  حافظ کا سال ولادت 726 ھجری ہے ۔ اس طرح حافظ کا سال وفات 791  ھجری تحریر کیا گیا ہے ۔
شیراز کے  نامور اساتذہ سے متداولہ علوم حاصل کیے اور قرآن مجید حفظ کیا  اور اسی نسبت سے حافظ تخلص اپنایا ۔ آپ  نے الہیات ، تفسیر ،فقہ اور حکمت کا مطالعہ کیا ۔ علم ہندسہ اور موسیقی  سے بھی آپ کو بہت لگاؤ تھا ۔ آپ کے معاصر اور ہم درس نے آپ کو مولانا الاعظم ، استاد تحاریرالادباء اور فخرالعلماء کے ناموں سے یاد کیا ہے ۔
حافظ نے 791 ھجری میں شیراز کے مقام پر وفات پائی اور مصلی کے مقام پر دفن ہوۓ ۔ ان کا مزار ہر خاص و عام کی زیارت گاہ ہے ۔

تصانیف :

حافظ کی زندہ جاوید تصنیف اس کا دیوان ہے جو غزلیات ، قصائد ،قطعات اور  رباعیوں پر مشتمل ہے ۔ یہ دیوان انہوں نے خود مرتب کیا بلکہ ان کے معاصر محمد گل اندام نے ترتیب دیا ۔ مگر افسوس کی بات یہ ہے محمد گل اندام کا مرتب کردہ دیوان بھی آج موجود نہیں ۔ اس کے علاوہ حافظ نے تفسیر قرآن بھی تحریر کی۔ محمد گل اندام کے بقول حافظ شیرازی نے کشاف اور مصباح کے حواشی بھی  تحریر کیے ۔حافظ کے دیوان سے منتخب کردہ چند اشعار پیش خدمت کرتا ہوں

روئے تو کس ندید و ہزارت رقیب ہست
در غنچہ ہنوز و صدت عندلیب ہست

تیرا چہرا کسی نے نہیں دیکھا اور تیرے ہزاروں رقیب ہیں
تو ابھی غنچہ ہی میں ہے اور تیری سینکڑوں بلبلیں ہیں

گر آمدم بکوئے تو چنداں غریب نیست
چوں من دریں دیار ہزاراں غریب ہست

اگر میں تیرے کوچہ میں آ گیا ہوں تو کوئی نادر بات نہیں ہے
مجھ جیسے اس وطن میں ہزاروں پردیسی ہیں

ہر چند دورم از تو کہ دور از تو کس مباد
لیکن امید وصلِ تو ام عنقریب ہست

ہر چند کہ میں تجھ سے دور ہوں خدا کرے تجھ سے کوئی دور نہ ہو
لیکن تیرے وصل کی امید مجھ سے قریب ہے

عاشق کہ شد کہ یار بحالش نظر نہ کرد
اے خواجہ درد نیست وگرنہ طبیب ہست

کون ہے جو عاشق ہوا ہو اور یار نے اسکے حال پر نظر نہ کی ہو
ارے صاحب درد ہی نہیں ہے ورنہ طبیب موجود ہے

غزل حضرت ڈاکٹر محمد اقبال رحمۃاللہ علیہ



از دیر مغاں آیم بی گردش صہباست
در منزل لا بودم از بادہ الا مست

میں دیر مغاں سے بے پیے مست ہو کر آیا ہوں
میں لا کی منزل میں تھا الا کی شراب سے مست

عاشق نشدی جلوہ جاناں کہ شناسی
تا سر نہ دھی ھمت مرداں کہ شناسی

تو عاشق نہ ہوا تو جاناں کے جلوہ کو کیا پہچانے
جب تک سر نہ دے دے ہمت مرداں کو کیا جانے

دانم کہ نگاہ او ظرف ہمہ کس بیند
کرد است مرا ساقی از عشوہ و ایما مست

میں جانتا ہوں کہ اسکی نگاہ ہر کسی کا ظرف پہچانتی ہے
لیکن میرے ساقی نے مجھے صرف اپنے نازوانداز سے مست کر دیا

وقت است کہ بکشایم میخانہ رومی باز
پیران حرم دیدم در صحن کلیسا مست

وقت آگیا ہے کہ رومی کے میخانہ کو کھولا جائے
میں نے پیران حرم کو صحن کلیسا میں مست دیکھا

 این کار حکیمی نیست دامان کلیمی گیر
صد بندہ ساحل مست یک بندہ دریا مست

یہ دانائی کا کام نہیں ہے اسکے لیے کلیم کا دامن تھام
ساحل پر سو مست آدمی دریا میں ایک مست آدمی کو نہیں پہنچتے

از حرف دلآویزش اسرار حرم پیدا
دی کافرِ عشق کی دیدم در وادی بطحا مست

اسکی دل آویز باتوں سے اسرار حرم پیدا ہوے
وہ عشق جسے میں نے وادی بطحا میں مست دیکھا

سینا است کہ فاران است یا رب چہ مقام است ایں
ہر ذرہ خاک من چشمی است تماشا مست

یہ سینا ہے یا فاران یا رب یہ کیا مقام ہے
میری خاک کا ہر ذرہ حیرت زدہ مست  آنکھ ہے