Tuesday, 13 August 2019

عذاب دانش حاضر


عذاب دانش حاضر
پاکستانی قوم ترقی کیسے کرے گی؟یہ وہ سوال ہے جس پر ہر کالج یونیورسٹی دفتر دوکان فیکٹری بلکہ چوراہوں اور ہوٹلوں بلکہ جہاں بھی دو شخص فرصت ملنے پر گھنٹوں طبع آزمائی کرتے ہیں اور پھر ٹھنڈی آہ بھر کے اس دعا کے ساتھ مجلس برخاست کردینے ہیں  اللہ ہی اس قوم پر رحم فرمائے۔ہم بھی آمین کہتے ہیں اللہ سے رحم مانگیں ضرور مانگیں لیکن آخر حل ہے کیا۔40 سال تو مجھے ہو گئے یہ بے کار اور بے تکی گفتگو سنتے تو کیوں یہ قوم دن بہ دن پیچھے کی طرف گامزن ہے کیوں اس کے نصیب میں خوشحالی اور ترقی نہیں ۔آئیے غور کریں کہ آخر پاکستانیوں کا مسئلہ ہے کیا جب تک بیماری کی تشخیص نہ ہو علاج تجویز کرنا حماقت ہوتی ہے۔جب ہم لوگوں کی قیاس آرائیوں کو سنتے ہیں تو پتہ چلتا ہے کہ کسی نے کہا اس قوم کا بڑا مسئلہ کرپشن ہے کسی نے کہا جھوٹ ہے کسی نے کہا ناخواندگی ہے کوئی کہتا ہے سائینس وٹیکنالوجی کا فقدان ہے کوئی کہتا ہے ٹیکس چوری بڑا مسئلہ ہے تو کوئی انگریزی سے ناواقفیت کو اس پسماندگی کی وجہ قرار دے رہا ہے۔۔جناب کسی حد تک یہ ساری باتیں بجا مگر انکی حیثیت ثانوی ہے۔آج انٹرنیٹ اور میڈیا کی وجہ سے مختلف اقوام کی تاریخ تک رسائی عام ہونے کی وجہ سے لوگ یہ باتیں کرتے ہیں دیکھیں جی چائینہ نے ایسے ترقی کی روس نے اس طرح امریکہ نے ایسے تو یورپ نے ویسے۔یاد رکھیں جب تک ہم مطلقاً ان ممالک کی نقل کو ہی اپنی ترقی کا راز سمجھتے رہیں گے ہم کبھی منزل تو کیا راستہ بھی نہیں ڈھونڈ سکتے پہلے فیصلہ کریں کہ ہم ہیں کون؟
بس اسی سوال کے جواب میں ہی ہمارے درد کی دوا مل جائے گی۔علامہ اقبال نے کہا تھا نا
اپنی ملت پہ قیاس اقوام مغرب سے نہ کر
جی ہاں جب ہمارے گھر بچہ پیدا ہوتا ہے تو دائی کے بعد سب سے پہلے جو ہمارے گھر آتا ہے وہ ایک مولوی ہوتا ہے جو بچے کے کان میں اذان دینے آیا
گویا کہ اللہ اکبر کی صدا بلند ہوئی تو گھر کی فضا میں یہ اعلان کیا گیا کہ اس گھر میں  اللہ کو سپر پاور ماننے والوں اور ایک اللہ پر ایمان رکھنے والوں  میں ایک اور اضافہ ہوا ہے،محمد الرسول اللہ کا ایک اور امتی آگیا ہے۔اگلا مرحلہ چند ہی دنوں بعد سنت ختنہ اور پھرجب وہ بچہ بولنا شروع کرتا ہے تو اسے بسم اللہ اور کلمہ پڑھایا جاتا ہے قرآن
نماز روزہ زکوٰۃ حج  قربانی اور دیگر اسلامی احکام کے ساتھ زندگی بسر کرتے کرتے جب اجل کا فرشتہ اسے مالک ہی کی طرف لے جاتا ہے تو چار تکبیریں فضا میں بلند ہوتی ہیں اور رسول اللہ کے بتائے ہوئے طریقے سے اس کی آخری رسومات ادا کردی جاتی ہیں۔معذرت کہ بات کچھ لمبی ہو گئی اس سارے سفر کی روداد سنانے کا مقصد صرف اتنا ہے کہ
علامہ اقبال فرماتے ہیں
خاص ہے ترکیب میں قوم رسول ہاشمی
جب یہ قوم ساری اقوام سے الگ ہے اسکی پیدائش سے لیکر اسکی موت تک کے تمام معاملات کسی قوم کے ساتھ مماثلت نہیں رکھتے تو کسی دوسری قوم کے نظام کے ساتھ اس قوم کا گزارہ ناممکن ہے۔اغیار کے نظام ان کے لیے تو مفید ہو سکتے ہیں ہمارے لیے ہرگز نہیں۔
ہمارا شیرازہ بکھرا ہوا ہے ہم مختلف گروہوں اور طبقوں میں تقسیم ہیں ہمارے مسائل کی جڑ مختلف متضاد نظام تعلیم کا رائج ہونا ہے جو سوچی سمجھی سازش کے تحت رائج کیے گئے ہیں تاکہ وحدت کو پارہ پارہ کیا جائے۔اس نظام تعلیم کو اور اس نصاب کو بدلنا ہو گا جس نے ایک جدا گانہ تشخص اور جداگانہ رہن سہن اور رسم رواج کی بنیاد پر ایک ملک حاصل کیا آج اسی ملک میں اسی قوم کو ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت چھوٹے چھوٹے گروہوں میں بانٹ دیا گیا ہے۔  ہر ایک طبقہ دوسرے طبقے کو جاہل نا سمجھ بے وقوف بلکہ اسلام سے بھی فارغ غدار اور نہ جانے کیا کیا کہہ رہا ہے۔ہمیں دشمن اور اسکی چال دونوں کو سمجھنا ہو گا۔ہمیں پھر سے  قوم  کو متحد کرنے پر کام کرنا ہے
چھپا کر آستیں میں بجلیاں رکھی ہیں گردوں نے
عنا دل باغ کے غافل نہ بیٹھیں آشیانوں میں
علامہ اقبال نے جہاں ہمیں اسلامی وحدت ملی کی ضرورت اور اہمیت سے آگاہ کیا تھا وہاں فرنگ کی سازش کے بارے بھی کھل کر بتایا تھا اور اسکا حل بھی وہ فرماتے ہیں
تفریق ملل حکمت افرنگ کا مقصود
اسلام کا مقصود فقط ملت آدم
مکہ نے دیا خاک جینو ا کو یہ پیغام
جمعیت اقوام ہے جمعیت آدم
دور حاضر کی مغرب زدہ تعلیم اور نصاب کو بدل ایسا نظام تعلیم اور ایسا نصاب رائج کرنا ہوگا ہے جو طالبعلموں کیلئے جدید علوم کے حصول کے ساتھ ساتھ انہیں اسلام اور پاکستانیت سے محبت کرنے والا ایک اچھا شہری بنائے گا۔ جس کے زریعے   اسلامی وحدت کو فروغ ملے اور اسی بھائی چارے کی فضا پیدا ہو جو چودہ سو چالیس  برس پہلے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قائم فرمایا تھا  مجودہ کاروباری اور غلامانہ سوچ کے ساتھ تعلیم کی فراہمی کے عظیم اسلامی، قومی، انسانی اور فلاحی مقصد کو حاصل نہیں کیا جا سکتا، عصر حاضر کے سائنسی، سماجی، معاشی رجحانات کے مطابق بچوں کوتعلیمی نصاب نہ پڑھا کر جہالت کے اندھیروں کو مزید گہرا کیا جا رہا ہے۔غیر مسلم تہذیب اور کارناموں کو منصوبہ بندی کے تحت نصاب میں شامل کیا گیا جس سے پاکستانیت اور قابل فخر مسلم تاریخ کو مسخ کیا گیا۔
کس قدر شرم کی بات ہے کہ جس قوم کے پاس اپنا مستقل نظام، فکر و عمل اور ایک مکمل نظام تہذیب وتمدن ہے جس میں زندگی کے جملہ مسائل کا حل تفصیلی یا اصولی طور پر موجود ہے۔ اور ہدایت و راہنمائی حاصل کرنے کے لیے اسے کسی حال میں بھی امریکہ و یورپ کی طرف دیکھنے کی ضرورت نہیں ہے، وہ اپنے اس زریں و جامع ترین نظام کو چھوڑ کر غیروں کے پس خوردہ نظام سے اس ملک میں تبدیلی لانا چاہے تو ہرگز نہیں لا سکتی انہیں سب سے پہلے ایک قوم بننا ہے اخوت و محبت کے رشتے از سر نو استوار کرنے ہیں۔
جب یہ ایک قوم ہوں گے ایک جیسا سوچے گے تو کچھ دور نہیں کہ ان تمام اقوام کا مقابلہ نہ کرسکیں جنہوں نے ترقی اور روشنی کا سفر مسلمانوں کے وضع کردہ اصولو ں پر عمل پیرا ہو کر طےکیا ہے۔کون نہیں جانتا کہ جب مدینہ منورہ میں تا افق روشنی تھی تو یورپ اندھیروں میں ڈوبا ہوا تھا۔غیر ممکن ہے کہ یہ قوم ان اصولوں پر عمل پیرا ہو کر کسی سے پیچھے رہ جائے جو حقیقی ریاست مدینہ نے قائم کیے تھے
تازہ پھردانش حاضر نے کیا سحر قدیم
گزر اس عہد میں ممکن نہیں بے چوب کلیم
عذاب دانش حاضر  سے  باخبر ہوں  میں
کہ میں اس آگ میں ڈالا گیا ہوں مثلِ خلیل

No comments:

Post a Comment