از دیر مغاں آیم بی گردش صہباست
در منزل لا بودم از بادہ الا مست
میں دیر مغاں سے بے پیے مست ہو کر آیا ہوں
میں لا کی منزل میں تھا الا کی شراب سے مست
عاشق نشدی جلوہ جاناں کہ شناسی
تا سر نہ دھی ھمت مرداں کہ شناسی
تو عاشق نہ ہوا تو جاناں کے جلوہ کو کیا پہچانے
جب تک سر نہ دے دے ہمت مرداں کو کیا جانے
دانم کہ نگاہ او ظرف ہمہ کس بیند
کرد است مرا ساقی از عشوہ و ایما مست
میں جانتا ہوں کہ اسکی نگاہ ہر کسی کا ظرف پہچانتی ہے
لیکن میرے ساقی نے مجھے صرف اپنے نازوانداز سے مست کر دیا
وقت است کہ بکشایم میخانہ رومی باز
پیران حرم دیدم در صحن کلیسا مست
وقت آگیا ہے کہ رومی کے میخانہ کو کھولا جائے
میں نے پیران حرم کو صحن کلیسا میں مست دیکھا
این کار حکیمی نیست دامان کلیمی گیر
صد بندہ ساحل مست یک بندہ دریا مست
یہ دانائی کا کام نہیں ہے اسکے لیے کلیم کا دامن تھام
ساحل پر سو مست آدمی دریا میں ایک مست آدمی کو نہیں پہنچتے
از حرف دلآویزش اسرار حرم پیدا
دی کافرِ عشق کی دیدم در وادی بطحا مست
اسکی دل آویز باتوں سے اسرار حرم پیدا ہوے
وہ عشق جسے میں نے وادی بطحا میں مست دیکھا
سینا است کہ فاران است یا رب چہ مقام است ایں
ہر ذرہ خاک من چشمی است تماشا مست
یہ سینا ہے یا فاران یا رب یہ کیا مقام ہے
میری خاک کا ہر ذرہ حیرت زدہ مست آنکھ ہے

No comments:
Post a Comment