Thursday, 19 April 2012

غزل حضرت ڈاکٹر محمد اقبال رحمۃاللہ علیہ



از دیر مغاں آیم بی گردش صہباست
در منزل لا بودم از بادہ الا مست

میں دیر مغاں سے بے پیے مست ہو کر آیا ہوں
میں لا کی منزل میں تھا الا کی شراب سے مست

عاشق نشدی جلوہ جاناں کہ شناسی
تا سر نہ دھی ھمت مرداں کہ شناسی

تو عاشق نہ ہوا تو جاناں کے جلوہ کو کیا پہچانے
جب تک سر نہ دے دے ہمت مرداں کو کیا جانے

دانم کہ نگاہ او ظرف ہمہ کس بیند
کرد است مرا ساقی از عشوہ و ایما مست

میں جانتا ہوں کہ اسکی نگاہ ہر کسی کا ظرف پہچانتی ہے
لیکن میرے ساقی نے مجھے صرف اپنے نازوانداز سے مست کر دیا

وقت است کہ بکشایم میخانہ رومی باز
پیران حرم دیدم در صحن کلیسا مست

وقت آگیا ہے کہ رومی کے میخانہ کو کھولا جائے
میں نے پیران حرم کو صحن کلیسا میں مست دیکھا

 این کار حکیمی نیست دامان کلیمی گیر
صد بندہ ساحل مست یک بندہ دریا مست

یہ دانائی کا کام نہیں ہے اسکے لیے کلیم کا دامن تھام
ساحل پر سو مست آدمی دریا میں ایک مست آدمی کو نہیں پہنچتے

از حرف دلآویزش اسرار حرم پیدا
دی کافرِ عشق کی دیدم در وادی بطحا مست

اسکی دل آویز باتوں سے اسرار حرم پیدا ہوے
وہ عشق جسے میں نے وادی بطحا میں مست دیکھا

سینا است کہ فاران است یا رب چہ مقام است ایں
ہر ذرہ خاک من چشمی است تماشا مست

یہ سینا ہے یا فاران یا رب یہ کیا مقام ہے
میری خاک کا ہر ذرہ حیرت زدہ مست  آنکھ ہے

No comments:

Post a Comment