Thursday, 19 April 2012

حافظ محمد شیرازی


حافظ محمد شیرازی کا نام محمد ،لقب شمس الدین اور تخلص حافظ تھا ۔ حافظ نے خود اپنا نام یوں تحریر کیا ہے : محمد بن المقلب بہ شمس الحافظ الشیرازی ۔  حافظ کا سال ولادت 726 ھجری ہے ۔ اس طرح حافظ کا سال وفات 791  ھجری تحریر کیا گیا ہے ۔
شیراز کے  نامور اساتذہ سے متداولہ علوم حاصل کیے اور قرآن مجید حفظ کیا  اور اسی نسبت سے حافظ تخلص اپنایا ۔ آپ  نے الہیات ، تفسیر ،فقہ اور حکمت کا مطالعہ کیا ۔ علم ہندسہ اور موسیقی  سے بھی آپ کو بہت لگاؤ تھا ۔ آپ کے معاصر اور ہم درس نے آپ کو مولانا الاعظم ، استاد تحاریرالادباء اور فخرالعلماء کے ناموں سے یاد کیا ہے ۔
حافظ نے 791 ھجری میں شیراز کے مقام پر وفات پائی اور مصلی کے مقام پر دفن ہوۓ ۔ ان کا مزار ہر خاص و عام کی زیارت گاہ ہے ۔

تصانیف :

حافظ کی زندہ جاوید تصنیف اس کا دیوان ہے جو غزلیات ، قصائد ،قطعات اور  رباعیوں پر مشتمل ہے ۔ یہ دیوان انہوں نے خود مرتب کیا بلکہ ان کے معاصر محمد گل اندام نے ترتیب دیا ۔ مگر افسوس کی بات یہ ہے محمد گل اندام کا مرتب کردہ دیوان بھی آج موجود نہیں ۔ اس کے علاوہ حافظ نے تفسیر قرآن بھی تحریر کی۔ محمد گل اندام کے بقول حافظ شیرازی نے کشاف اور مصباح کے حواشی بھی  تحریر کیے ۔حافظ کے دیوان سے منتخب کردہ چند اشعار پیش خدمت کرتا ہوں

روئے تو کس ندید و ہزارت رقیب ہست
در غنچہ ہنوز و صدت عندلیب ہست

تیرا چہرا کسی نے نہیں دیکھا اور تیرے ہزاروں رقیب ہیں
تو ابھی غنچہ ہی میں ہے اور تیری سینکڑوں بلبلیں ہیں

گر آمدم بکوئے تو چنداں غریب نیست
چوں من دریں دیار ہزاراں غریب ہست

اگر میں تیرے کوچہ میں آ گیا ہوں تو کوئی نادر بات نہیں ہے
مجھ جیسے اس وطن میں ہزاروں پردیسی ہیں

ہر چند دورم از تو کہ دور از تو کس مباد
لیکن امید وصلِ تو ام عنقریب ہست

ہر چند کہ میں تجھ سے دور ہوں خدا کرے تجھ سے کوئی دور نہ ہو
لیکن تیرے وصل کی امید مجھ سے قریب ہے

عاشق کہ شد کہ یار بحالش نظر نہ کرد
اے خواجہ درد نیست وگرنہ طبیب ہست

کون ہے جو عاشق ہوا ہو اور یار نے اسکے حال پر نظر نہ کی ہو
ارے صاحب درد ہی نہیں ہے ورنہ طبیب موجود ہے

No comments:

Post a Comment